نئی دہلی ،28؍ ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی ) بی جے پی ، آرایس ایس اور وشوا ہندو پریشد نے تبدیلی مذہب کو اتر پردیش سے لے کر کیرلا تک ایک بڑا مسئلہ بنادیا ہے اور نام نہادلو جہاد کو روکنے کیلئے قوانین بنائے ہیں اور کچھ جگہوں پر اسے بنانے کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت ان دعوؤں کے برعکس ہے ۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق مسلم اور عیسائی اقلیتوں کے خلاف ہند ومخالف بیانیہ بنانے کی کوشش میں اگر چہ یہ تنظیمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ہندوؤں کا بڑے پیمانے پر مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے یا اس کی کوشش کی جا رہی ہے ، کیرلا کے اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ دھرم پر پورتن کر کے ہندو بنانے والوں کی تعداد دوسرے مذہب اپنانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام اور عیسائیت قبول کرنے والے جتنے ہیں ، اس سے زیادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام یا عیسائیت چھوڑ کر ہندو دھرم قبول کیا ہے ۔
دی نیوانڈین ایکسپریس کے مطابق سال 2020 میں جتنے تبدیلی مذہب ہوئے ہیں ، ان میں سے 47 فیصد معاملوں میں لوگ ہندو بنے ہیں ۔ ہندو مذہب قبول کرنے والوں پر ایک نظر ڈالنے سے کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ دلت عیسائی سے ہندو بنے ہیں ۔ ان میں عیسائی چرا مر، عیسائی سمبھو اور عیسائی پلایا ذات کے لوگ زیادہ تھے ۔ایسا لگتا ہے کہ عیسائیوں کیلئے ذات پرمبنی ریزرویشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ہندو بن گئے تا کہ انہیں نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن کا فائدہ مل سکے ۔
اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان معاملات میں تبدیلی مذہب کی بڑی وجہ سماجی اور علمی طور پر آگے بڑھنے کی خواہش ہے کسی کی معاشی حیثیت اور معاشرے میں کسی کے مقام کو آگے بڑھانا ہے ۔ مسلمانوں سے ہندو ، جو مسلمان ہوئے ان میں سے 77 فیصد پہلے ہندو تھے ۔ ان میں ایزوا، تھیا اور نیئر ذات کے لوگ زیادہ تھے۔ یعنی ذات پات کی امتیاز سے نکلنے کیلئے ان لولوگوں نے اسلام قبول کیا ۔ ان اعداد وشمار کی سیاسی اہمیت ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس نے پورے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ دوسرے مذاہب کے نو جوان ہندولڑکیوں سے دوستی کر کے اپنے بارے میں غلط معلومات دے کر اور ان کا مذہب تبد یل کروا کر شادی کر لیتے ہیں ۔ بی جے پی اور آرایس ایس کی اصطلاح میں اسے لو جہاد کہا گیا۔ اس مبینہ لو جہادکو روکنے کیلئے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اسمبلی سے ایک قانون پاس کرایا، جس میں ایسی شادیوں پر پابندی عائد کئی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے یا جبراً مذہب تبد یل کر نے والوں کو سزا دینے کی بھی دفعات ہیں ۔کئی دیگر ریاستوں نے ۔ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے قانون پر کام کر رہی ہیں ۔ بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ سمیت کئی عدالتوں نے فیصلہ دیا کہ اگر دو بالغ باہمی رضامندی سے شادی کرتے ہیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جاسکتا، چاہے دو الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔